Monday, August 17, 2009

پاکستان میں تقریبا نصف آبادی، ہائپرٹینشن،ڈپریشن، ذیابیطس، ہیپاٹائیٹس بی اور سی سمیت مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہے

پاکستان میں تقریبا نصف آبادی،
ہائپرٹینشن،ڈپریشن، ذیابیطس، ہیپاٹائیٹس بی اور سی سمیت
مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہے

ڈاویونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں گزشتہ روز عالمی یوم جزام کے موقع پر انفیکشنز ڈیزیز کے موضوع پر سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمید نے کہا کہ پاکستان میں تقریبا نصف آبادی، ہائپرٹینشن،ڈپریشن، ذیابیطس، ہیپاٹائیٹس بی اور سی،اور نوزائیدہ بچوں کی بیماریوں سمیت مختلف اقسام کی بیماریوں میں مبتلا ہے۔تپ دق، لیپروسی اور دیگر انفکیشز بیماریوں سے بچاؤ کے لئے ہیلتھ ایجوکیشن کی سخت ضرورت ہے جسمیں میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے،ڈاو یونیورسٹی نے اس کے لئے ایف ایم ریڈیو کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔پروفیسر مسعود نے کہا کہ ملک میں ویکسنز درآمد کرنے کی وجہ سے امیونائزیشن کافی مہنگی پڑجاتی ہے ۔ ویکسینز کی تیاری کے لئے ڈاو یونیورسٹی نے بائیو ٹیکنالوجی کی بیرون ملک سے منتقلی کا فیصلہ کیا ہے۔ میری ایڈیلیٹ لیپروسی سینٹر کی بانی میڈیم رتھ فاو نے اس موقع پر کہا کہ جزام کا علاج کافی طویل اور مہنگا ہوتا ہے اسکی جلد تشخیص کرلی جائے تو انسانی جسم کو کم نقصان پہنچاتا ہے۔اگر جلد پرکسی قسم کے دھبے یا خارش نمودار ہوجائے تو جزام کا خدشہ واقع ہوسکتا ہے اس صورت میں فوراً فزیشن سے رجوع کرنا چاہئے۔ صحت یابی کا کامل یقین مریض کو جلد صحت یاب کردیتا ہے۔ڈاو میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر صلاح الدین نے کہا کہ فیکلٹی ارکان، ڈاکٹرز ، پوسٹ گریجوئیٹس اور میڈیکل طلبا کی تربیت اور جدید معلوما ت کی فراہمی کے لئے اس سال باقاعدگی سے ہر ماہ تربیتی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔آغاخان کے کمیونٹی میڈیسن کے سربراہ پروفیسر گریگوری پاپاز نے کہا کہ میگا سٹیز اور میگا انڈسٹریز کی وجہ سے پاکستان کو ڈینگی، ایچ آئی وی اور انفلوئینزا سمیت بے شمار انفیکشنز ڈیزیز کے چیلنجز کا سامنا ہے۔اایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں میں 26فیصد کا تعلق کراچی سے ہے جبکہ 0.2 سے 12 فیصد کا تعلق دیگر شہروں سے ہے۔پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ صحت کے شعبے میں ناکافی سہولتوں کی وجہ سے ہم ابھی تک انفیکشز ڈیزیز پر قابو پانے میں ناکام ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر قطب کاکر نے ملیریاجبکہ ڈاو یونیورسٹی کے ڈاکٹر ابو طالب نے ڈینگی وائرس کے بارے میں میں کہا کہ گھروں ، محلوں میں گندگی اور ٹھہرے ہوئے گندے یا صاف پانی کی وجہ سے یہ مرض پھیلتا ہے۔ اس کی تشخیص لیبارٹری ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔سال دو ہزار چھ میں پاکستان میں سترہ ملین لوگوں میں ملیریا تشخیص ہوا۔ان سے بچاؤ کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہئے جبکہ گورنمنٹ کو اسپرے باقائدگی سے کرانا چاہئے۔ میری لیپروسی سینٹر کے ڈاکٹر مطاہر ضیا نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال جزام کے چھ سو نئے کیس دریافت ہوتے ہیں ۔ اس سے جلد، آنکھیں، نروز،اور ہڈیا ں متاثر ہوتی ہیں۔کیمو تھراپی ، فزیو تھراپی اور سرجری کے ذریعے اس کا علاج کیا جاتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ ملٹی ڈرگ تھراپی کے بعد دس سال کا علاج چھ سے چوبیس ماہ میں ممکن ہوگیا ہے۔ سال دو ہزار چھ میں پاکستان میں 481 جزام کے کیس سامنے آئے ہیں جنمیں سے293 کا تعلق سندھ سے ہے۔ان میں سے زیادہ تر کیسز پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔آغا خان یونیورسٹی کے پروفیسر جاوید خان نے کہا کہ تپ دق زیادہ تر پندرہ سے چون سال کے افراد میں واقع ہوتا ہے۔ تپ دق سے ہونے والی اموات میں سے 98 فیصد کا تعلق ترقی پذیر ملکوں سے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مصدقہ ٹیسٹوں کے لئے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی لیبارٹریز ، یہاں کام کرنے والے ماہرین ااور اچھی کوالٹی کی سستی دواوں کی شدید کمی ہے جسکی وجہ سے انفیکشز ڈیزیز پر قابو پانا ممکن ہورہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے نمائندے عبدالواحد بھرت نے کہا کہ انفیکشز ڈیزیز پر قابو پانے کے لئے ان کے اسباب کا جاننا اورباقائدہ لاحہ عمل طے کرکے ان کا تدارک کرنا اہمیت کا حامل ہے۔اس کے لئے میڈیکل یونیورسٹیز میں تحقیق کے رجحان کو فروغ دینا چاہئے۔